“ایک بار جنید جمشید کے منہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کچھ الفاظ منہ سے نکل گئے تھے۔ انسان ہے، زبان صحیح طرح کبھی اظہار نہیں کرپاتی لیکن لوگوں نے اسے نہ بخشا۔ جنید جمشید جیسے

عاشقِ رسول کو بھی م. ارا پیٹا جو کہ غلط تھا اور اسلام اس رویے کی اجازت نہیں دیتا“ یہ الفاظ ہیں مفتی طارق مسعود کے جو سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے اسلام کی روشی میں وضاحت کررہے تھے۔ مفتی صاحب نے کہا

کہ تو. ہینِ ر. سالت کی تشریح کرنا علماء اکرام کا کام ہے اور فیصلہ کرنا جج اور ریاست کا کام ہے عوام کا نہیں۔ عوام کو سمجھانے کے لئے مفتی صاحب نے تو. ہین ر. سالت کی 4 شرائط کو مثالوں کے ساتھ بھی سمجھایا۔ویڈیو دیکھ کر سمجھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں