نوازشریف کی وطن واپسی۔۔ ن لیگی نے باضابطہ اعلان کردیا لاہور (نیوزڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم و مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف رواں سال واپس آ رہے ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف وطن واپس آکر پھر قوم کی قیادت کریں گے اور پاکستان کو بحران سے نکالیں گے۔گذشتہ ماہ بھی جاوید لطیف نے دعویٰ کیاتھا کہ

نوازشریف اسی سال وطن واپس آئیں گے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نوازشریف کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف اسی سال اپنی مرضی سے واپس آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ نے کہا بھٹو کو پھانسی

ہو گئی لیکن چڑیا پر نہیں مار سکی اور شیخ رشید احمد نے بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کا ٹکٹ لیا تھا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ
شیخ رشید نے اس وقت کہا بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تھا لیکن آج کہہ رہے ہیں غلط سزائیں مل بھی جائیں تو چڑیا پر نہ مارے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے 72 سالوں سے یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ سیاسی جماعتوں کو توڑنے سے ریاست کمزور ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ کیا لیکن امریکا کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ اور عمران خان نے کہا تھا کہ ان عدالتوں سے

نوازشریف کو انصاف نہیں ملے گا۔جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف اسی سال وطن واپس آئیں گے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ویزہ توسیع درخواست مسترد ہو چکی ہے۔ برطانوی حکومت نے نواز شریف کو برطانیہ میں مزید قیام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ نواز شریف نے برطانوی حکومت سے ویزہ توسیع کی درخواست کی تھی۔ قائد ن لیگ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ وہ بیمار ہیں، لہذا نہیں علاج مکمل ہونے تک برطانیہ میں مزید قیام کی اجازت دی جائے۔جمعرات کے روز برطانوی حکومت کے متعلقہ ادارے نے پاکستان کے سابق وزیراعظم کی ویزہ

توسیع درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں برطانیہ میں مزید قیام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ حکومت قائد ن لیگ نواز شریف کا پاسپورٹ 16 فروری 2021 کو ایکسپائر ہو چکا، اس لیے انہیں کسی دوسرے ملک کا سفر کرنے کیلئے بھی حکومت پاکستان کی اجازت درکار ہے۔حکومت پاکستان کی اجازت کے بنا نواز شریف برطانیہ سے کسی دوسرے ملک نہیں جا سکتے۔ جبکہ یہ بھی یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کو نومبر 2019 میں لاہور ہائیکورٹ نے علاج کے غرض سے 4 ہفتوں کیلئے برطانیہ جانے

کی اجازت دی تھی، تاہم نواز شریف کی جانب سے ناصرف لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ برطانیہ جانے کے بعد انہوں نے 2 سال گزرنے کے باوجود تاحال اپنا علاج شروع نہیں کروایا۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ 2 سال گزرنے کے باوجود علاج نہ کروانا اس بات کا ثبوت ہے کہ نواز شریف بیماری سے متعلق جھوٹ بول کر بیرون ملک گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں